ون ڈے کرکٹ پاور پلے کے قوانین: کتنے فیلڈر دائرے سے باہر ہو سکتے ہیں؟
ون ڈے کرکٹ پاور پلے کے قوانین سمجھنے کے لیے صرف یہ یاد رکھنا کافی نہیں کہ اننگز کے شروع میں فیلڈنگ پر پابندی ہوتی ہے۔ مردوں کے 50 اوور ODI میں پاور پلے تین مرحلوں میں تقسیم ہے، اور ہر مرحلے میں 30 یارڈ کے فیلڈنگ دائرے سے باہر کھڑے فیلڈرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد بدلتی ہے۔ اس لیے اسکور بورڈ پر اوور نمبر، اننگز کے کل اوور اور میدان میں فیلڈرز کی جگہ ایک ساتھ دیکھنی چاہیے۔ یہ مضمون ICC کی مردوں کی ون ڈے کھیلنے کی شرائط کے مطابق اصول سمجھاتا ہے؛ کسی مخصوص میچ یا کھلاڑی کے بارے میں پیش گوئی نہیں کرتا۔
پاور پلے کیا ہوتا ہے؟
پاور پلے اننگز کے ایسے حصے کو کہتے ہیں جس میں فیلڈنگ ٹیم کے کچھ کھلاڑی مخصوص دائرے سے باہر محدود تعداد میں ہی کھڑے ہو سکتے ہیں۔ دائرے کے اندر کھلاڑیوں کی بڑی تعداد رکھنے سے باؤنڈری پر فیلڈرز کم ہوتے ہیں اور بلے باز کے لیے خالی جگہیں پیدا ہوتی ہیں۔ پابندی کا مقصد ہر گیند پر ایک ہی دفاعی میدان سجانے سے روکنا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دائرے کے اندر ہر کھلاڑی لازماً ایک ہی جگہ رہے؛ کپتان فیلڈنگ ترتیب بدل سکتا ہے، مگر مقررہ تعداد سے زیادہ کھلاڑی باہر نہیں رکھ سکتا۔
فیلڈنگ دائرہ عام طور پر 30 یارڈ کے نشان سے پہچانا جاتا ہے۔ سرکل ایک بیضوی حد کی طرح بنایا جاتا ہے، جس کے نیم دائرے پچ کے درمیان کے قریب دونوں طرف ہوتے ہیں۔ ٹی وی گرافک یا میدان کی نشان دہی دیکھتے وقت یہ فرق اہم ہے کہ کھلاڑی گیند پھینکے جانے کے عین لمحے کہاں موجود ہے۔ اگر کھلاڑی گیند کے بعد اندر آ جائے تو وہ پہلے کی خلاف ورزی کو ختم نہیں کرتا، کیونکہ پابندی کا جائزہ گیند ڈالے جانے کے وقت لیا جاتا ہے۔
50 اوور مردوں کے ODI میں تین مرحلے
ICC کے مردوں کے 50 اوور ون ڈے میں پہلا پاور پلے اوور 1 سے اوور 10 تک ہوتا ہے۔ اس عرصے میں زیادہ سے زیادہ دو فیلڈر 30 یارڈ کے دائرے سے باہر رہ سکتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ اوور 11 سے اوور 40 تک ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ چار فیلڈر باہر ہو سکتے ہیں۔ تیسرا مرحلہ اوور 41 سے اوور 50 تک ہوتا ہے، اور اس میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیلڈر دائرے سے باہر رکھے جا سکتے ہیں۔
ان اعداد کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ 2، 4، 5 کی ترتیب ہے: شروع کے دس اوور میں دو، درمیانی تیس اوور میں چار، اور آخری دس اوور میں پانچ فیلڈر باہر۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پابندیاں صرف پاور پلے کے نام تک محدود ہیں؛ ICC کی شق میں ہر مرحلے کی حد مقرر ہے۔ اگر اننگز 50 اوور سے کم ہو جائے تو مرحلے بھی کم اوورز کے حساب سے دوبارہ تقسیم کیے جاتے ہیں، لہٰذا ہر مختصر میچ میں اصل 10، 40 اور 50 کی حد جوں کی توں نہیں رہتی۔
یہ مردوں کے ODI کی عام 50 اوور کی صورت ہے۔ مختلف مقابلے کی مخصوص شرائط یا خواتین کے بین الاقوامی میچ کے لیے متعلقہ کھیلنے کی شرائط دیکھیں، کیونکہ فارمیٹ اور مقابلے کے قواعد مختلف ہو سکتے ہیں۔ محض کسی پرانے گرافک، مختصر ویڈیو یا گزشتہ ٹورنامنٹ کی وضاحت کو موجودہ ہر مقابلے کا ضابطہ نہ سمجھیں۔ ICC اپنی ویب سائٹ پر مختلف فارمیٹس اور مرد و خواتین کے الگ دستاویزات فراہم کرتا ہے، اس لیے درست مقابلہ منتخب کرنا پہلا قدم ہے۔
بارش سے کم اوورز ہوں تو کیا بدلتا ہے؟
اگر کھیل میں وقفے کے بعد اننگز کے اوور کم کر دیے جائیں تو پاور پلے کی مدت بھی نئے کل اوور کے مطابق بدل سکتی ہے۔ ICC کی شرائط میں مختصر اننگز کے لیے مرحلوں کی جدول موجود ہے۔ اس لیے صرف اسکور بورڈ پر “اوور 8” دیکھ کر یہ نتیجہ نہ نکالیں کہ ابھی بھی 50 اوور والی اننگز کا پہلا مرحلہ جاری ہوگا۔ پہلے معلوم کریں کہ اننگز اب کتنے اوور کی ہے، پھر نظرثانی شدہ پاور پلے کی حد دیکھیں۔
مثال کے طور پر ایک مختصر 32 اوور کی اننگز میں پاور پلے مرحلے 7، 19 اور 6 اوور کے ہو سکتے ہیں۔ اگر بارش آٹھ اوور اور تین گیند کے بعد کھیل روک دے، اور اننگز 32 اوور کر دی جائے، تو کھیل دوبارہ شروع ہونے پر نیا مرحلہ فوراً لاگو ہو سکتا ہے۔ یہ تبدیلی درمیانی اوور میں بھی اثر انداز ہو سکتی ہے؛ امپائر اور اسکورر نظرثانی شدہ مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مخصوص عدد ہمیشہ مقابلے کے موجودہ ضابطے سے تصدیق کریں، کیونکہ اوورز کی اصل کمی کے مطابق جدول کی سطر مختلف ہوگی۔
دوسری اننگز بھی الگ سے دیکھی جاتی ہے۔ اگر ہدف کے تعاقب میں ٹیم مقررہ اوور ختم ہونے سے پہلے آل آؤٹ ہو جائے یا مطلوبہ ہدف حاصل کر لے تو اننگز رک جاتی ہے۔ پاور پلے کا گرافک اسی اننگز اور اس کے نظرثانی شدہ کل اوور کے مطابق ہونا چاہیے۔ براہ راست نشریات میں اسکور بورڈ، گرافک یا میدان کے امپائر کا اشارہ مدد دے سکتا ہے، مگر اگر ان میں اختلاف ہو تو مقابلے کے میچ ریفری اور آفیشل اسکورر کے اعلان کو ترجیح دیں۔
پابندی ٹوٹے تو نو بال کیوں ہو سکتی ہے؟
اگر گیند ڈالے جانے کے لمحے مقررہ حد سے زیادہ فیلڈر دائرے کے باہر ہوں تو یہ فیلڈنگ پابندی کی خلاف ورزی ہے۔ مردوں کے ODI کے فیلڈنگ ضابطے کے مطابق ایسی خلاف ورزی پر اسکوائر لیگ امپائر نو بال کا اشارہ کر سکتا ہے۔ نو بال کا نتیجہ عام طور پر بیٹنگ ٹیم کو اضافی رن دیتا ہے اور گیند کے شمار پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے؛ تفصیلی نتیجہ مقابلے کے موجودہ قواعد میں دیکھنا چاہیے۔ اس لیے صرف باہر موجود فیلڈرز گننا کافی نہیں، گیند کے وقت اور اوور کے پاور پلے مرحلے کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔
ٹی وی نشریات میں کیمرے کا زاویہ میدان کے پورے دائرے اور تمام فیلڈرز کو نہیں دکھاتا۔ کسی کھلاڑی کا پاؤں لائن کے قریب ہو تو اس کی جگہ کا فیصلہ عام ویڈیو سے ہمیشہ واضح نہیں ہوتا۔ امپائر گیند کے لمحے کی پوزیشن دیکھتے ہیں، جبکہ براڈکاسٹر کا گرافک صرف معاون معلومات ہو سکتا ہے۔ اگر کسی رن یا نو بال کا فیصلہ سامنے آئے تو اسے فوری طور پر پاور پلے کی خلاف ورزی قرار دینے سے پہلے امپائر کا اشارہ اور اسکور کارڈ دیکھیں۔
پاور پلے کو اسکور کارڈ میں کیسے پڑھیں؟
اسکور بورڈ پر موجودہ اوور، اننگز کا مقررہ کل، اور فیلڈرز کی تعداد کو ایک ساتھ ملائیں۔ اوور 10 کے اختتام کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے، جبکہ 40 اوور کے بعد 50 اوور کی اننگز تیسرے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ اگر بارش یا کسی اور رکاوٹ کے بعد اوور کم کیے گئے ہوں تو پہلے نظرثانی شدہ مرحلہ معلوم کریں۔ ہر پاور پلے میں کتنے رنز بنے، یہ بیٹنگ کی کارکردگی کا ایک اشارہ ہے، مگر اس سے پورے میچ کی کہانی خود بخود واضح نہیں ہوتی۔
رن ریٹ کے ساتھ وکٹوں کی تعداد، بلے بازوں کا کردار، پچ کی حالت، باؤنڈری کا فاصلہ اور بولر کی لائن بھی اہم ہیں۔ پہلے مرحلے میں زیادہ رنز بننا اچھے آغاز کی نشانی ہو سکتا ہے، لیکن ابتدائی وکٹیں کھونے سے باقی اننگز متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح درمیانی اوور میں فیلڈرز کی پابندی نسبتاً نرم ہونے کے باوجود ٹیمیں اسپن یا گیند کی تبدیلی سے رنز روک سکتی ہیں۔ پاور پلے ایک فیلڈنگ ضابطہ ہے، بلے باز کے لیے لازمی اسکور کی ضمانت نہیں۔
مختصر جانچ فہرست
- معلوم کریں کہ میچ مردوں کا ODI ہے یا کوئی دوسرا فارمیٹ۔
- اصل 50 اوور کی اننگز میں پاور پلے حدود 1–10، 11–40 اور 41–50 ہیں۔
- باہر فیلڈرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد بالترتیب دو، چار اور پانچ ہے۔
- بارش کے بعد کم اوورز ہوں تو نئے مرحلے کی سرکاری جدول تلاش کریں۔
- خلاف ورزی جانچنے کے لیے گیند ڈالے جانے کے لمحے کی جگہ اور امپائر کا اشارہ دیکھیں۔
ICC کی مردوں کے ODI شق 28، فیلڈر میں مرحلہ وار پابندیاں اور مختصر اننگز کی مثالیں موجود ہیں۔ تازہ دستاویزات کے لیے ICC Playing Conditions کا صفحہ دیکھیں۔ مزید کھیل تجزیہ کے لیے میچ تجزیہ مرکز یا اردو مضامین پر جائیں۔ یہ وضاحت قواعد کے بارے میں ہے؛ یہ کسی میچ کی پیش گوئی یا مالی فیصلہ کرنے کی ترغیب نہیں۔